کراچی: 15 جون: آغا خان یونیورسٹی اسپتال میں خون کی جانچ کا نیا ٹیسٹ نیوکلیئر ایسڈ ایمپلی فیکیشن ٹیسٹ (این اے ٹی) متعارف کروایا جا رہا ہے جس کی مدد سے ابتدائی مراحل میں ہی عطیہ شدہ خون میں ہیپاٹائٹس بی، سی اور ایچ آئی وی کی موجودگی کا علم ممکن ہے خواہ عطیہ کرنے والے میں یہ بیماری ظاہر نہ بھی ہوئی ہو۔
آغا خان یونیورسٹی میں خون کا عطیہ دینے والوں کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ سیمینار میں ماہرین نے بتایا کہ محفوظ خون اور خون کے اجزا کی فراہمی کا این اے ٹی جدید ترین اور محفوظ ترین طریقہ ہے۔ ڈاکٹر بشریٰ معیز نے پاکستان میں خون کے عطیات کی مایوس کن صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ خون کے عطیات کی سالانہ ضرورت 3.2 ملین بلڈ یونٹ ہے۔
پاکستان کی آبادی کا محض ایک فیصد (ہر 1000 میں سے 10 افراد) خون عطیہ کرتا ہے جس کا مطلب ہے کہ خون کے عطیات میں 40 فیصد سے زائد یعنی دگنے اضافے کی ضرورت ہے۔ 2020ء تک خون کی 100 فیصد رضاکارانہ فراہمی صحت کی عالمی تنظیم کا ہدف ہے۔ پاکستان میں آبادی کا اندازاً تین سے چار فیصد افراد جراثیمی، ہیپاٹائٹس اور دیگر ایسی بیماریوں کا شکار ہیں جو خون کے ذریعے منتقل ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر عثمان شیخ نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ خون کی مکمل جانچ اہمیت کی حامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ خون کے عطیے کے عمل کو محفوظ بنانے کے لئے اے کے یو ایچ میں پہلے ہی تین مراحل پر مشتمل ایک باقاعدہ نظام موجود ہے۔ ان میں مختصر انٹرویو کے بعدعطیہ دہندہ کا انتخاب، عطیہ دہندہ کی صحت کی جانچ کے لئے متخصر جسمانی معائنہ اور عطیہ شدہ خون کی جانچ شامل ہے۔
شکریہ جنگ سرچ ایبل