پرائیویٹ اسکولز ان رورل ایریا سندھ سمینار


سینئرصوبائی وزیر تعلیم پیر مظہرالحق نے کہا ہے کہ غیر جمہوری اور آمرانہ حکومتوں کے دور اقتدار میں سندھ کی تعلیم کو ایک گہری سازش کے تحت تباہ کیا گیا اور اساتذہ کو ویزہ سسٹم کا عادی بنایا گیا جس میں وہ صرف تنخواہ وصول کرتے تھے ڈیوٹی نہیں دیتے تھے نصف تنخواہ رشوت میں جاتی تھی اور اسکولوں کی عمارتوں کو وڈیروں اور جاگیرداروں کی اوطاقوں اور گوداموں میں تبدیل کردیا تھا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی جانب سے پرائیویٹ اسکولز ان رورل ایریا سندھ پروجیکٹ فیز - II کے عنوان سے منعقدہ سمینار سے خطاب میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے اقتدار میں آتے ہی سندھ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اساتذہ کی بھرتیوں کیلئے میرٹ کا اصول رائج کیا ہے ہم پر شک کرنے والوں کو حلفیہ بتاتا ہوں کہ میں نے کسی استاد کو بھی سیاسی سفارش پر بھرتی نہیں کیا ہے ہم نے میرٹ کو اصول بنا لیا ہے کسی سفارش کو قبول نہیں کریں گے
اس پر ہمیں صدر پاکستان اور وزیر اعلیٰ کی مکمل حمایت حاصل ہے انہوں نے کہا کہ بند اسکولوں میں سے 1400 اسکول کھول دیے گئے ہیں پھر بھی کہا جاتا ہے کہ 7500 ہزار اسکول بند ہیں سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے حال ہی میں 25 بند اسکول تھرپارکر میں دوبارہ کھول دیے ہیں۔