خضدار(نامہ نگار)بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی جانب سے جاری تقریب کے دوران دھماکوں میں ایک طالب علم جاں بحق 30سے زائد زخمی ہوگئے تفصیلات کے مطابق منگل کی شب بلوچستان انجینئرنگ یونیورسٹی میں بی ایس او آزاد کی جانب سے بلوچ ثقافت ڈے کے موقع پر جاری تقریب کے دوران زور دار دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں جنید نامی ایک طالب علم موقع پر شہید اور 30سے زائد زخمی ہوگئے جن میں طلبا تنظیم کے رہنما بھی شامل ہیں 10کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے تقریب میں شریک عینی شاہدین کے مطابق طلبا بلوچی ڈے کے موقع پر تقریبات میں مصروف تھے کہ یکے بعد دیگر تین دھماکے ہوئے اور متعددطالب علم موقع پر ہی گر پڑے جنہیں ساتھیوں کی مدد سے ہسپتال پہنچایا گیا
اس واقعہ پر شہریوں نے شدید و غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی دریں اثناء ضلعی منتظم صحت ڈاکٹر محمد مراد مینگل کی ہدایت پر ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کی گئی اور شدید زخمیوں کو علاج و معالجہ کی سہولتیں فراہم کی گئیں۔آن لائن کے مطابق وزیراعلیٰ نواب محمد اسلم خان رئیسانی نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ہے انہوں نے کہاکہ شرپسند عناصر جان بوجھ کر صوبے کے حالات کو ایک منصوبے کے تحت خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں
بم دھماکے میں ملوث ملزمان کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں ہیں انہیں جلد گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا وزیراعلیٰ نے متعلقہ پولیس حکام کو بم دھماکے کی فوری تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے ۔ نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر و سینیٹر ڈاکٹر مالک بلوچ حاصل بزنجو طاہر بزنجو اور جان بلیدی نے بھی اپنے مشترکہ بیان میں بم دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت خضدار یونیورسٹی میں بلوچ طلباء کو دھماکوں کا نشانہ بنایا گیا انہوں نے مطالبہ کیا کہ بم دھماکوں میں ملوث ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر کے بے نقاب کیا جائے۔
شکریہ جنگ