ہمدرد یونی ورسٹی کے چانسلر ایس ایم ظفر نے کہا ہے کہ ہماری پرانی نسل تو قوم کو اس کی توقع کے مطابق دینے میں ناکام رہی ہے۔ اب ملک کی توقعات نئی نوجوان نسل سے وابستہ ہیں۔ وہ جمعہ کو ہمدرد یونی ورسٹی کانووکیشن کے پہلے دن کے پہلے اجلاس سے بیت الحکمہ، مدینتہ الحکمہ میں خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے فارغ التحصیل طلبہ سے کہا کہ دنیا اور بطور خاص پاکستان ان سے ملک کے لیے کچھ بہتر کرنے کے منتظر ہیں۔ آپ اپنا ذہن استعمال کریں آپ یقینا بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ ماضی سے سبق ضرور حاصل کریں لیکن اپنی پوری توجہ صرف ماضی پر نہ رکھیں
بلکہ حال اور مستقبل کو پیش نظر رکھیں۔ اس سے قبل یونی ورسٹی کی کارکردگی رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمدرد کالج آفمیڈیسن اینڈ ڈینٹسٹری میں 37 سعودی عرب کے طلبا داخل ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ ہمدرد یونی ورسٹی بین الاقوامی یونی ورسٹی بنتی جا رہی ہے۔
پہلے اجلاس میں میڈیکل طلبہ کی حلف برداری بھی ہوئی نیز 5 طلبہ کو یونی ورسٹی گولڈ میڈلز اور 2 طلبہ کو شہید حکیم محمد سعید گولڈ میڈلز ان کی بہترین تعلیمی کارکردگی پر دیئے گئے۔ پہلے اور دوسرے اجلاسوں میں ماہرین تعلیم، اسکالروں، اراکین شوریٰ ہمدرد، ممتاز شہریوں اور والدین کے علاوہ طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شکریہ جنگ