عالمی بنک کی ہدایت پر سندھ حکومت نے پروونشل انسٹی ٹیوٹ ٹریننگ سینٹر نوابشاہ (پائٹ) اور بیورو آف کریکولم جامشورو کو باقاعدہ جدا کر دیا ہے جس کے تحت اب دونوں اداروں کے قواعد اور ذمہ داریاں جدا ہوں گے۔ صوبائی حکومت نے دونوں اداروں کے قواعد اور ذمہ داریوں کے تعین کیلئے سہ رکنی کمیٹی تشکیل دیدی ہے جس کے مطابق ڈائریکٹر بیورو آف کریکولم اس کے چیئرمین ہوں گے جبکہ ڈائریکٹر جنرل پائٹ اور مشتاق احمد شاہانی اس کے ممبران ہوں گے۔ کمیٹی کے قیام کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
سیکرٹری تعلیم صدیق میمن کے مطابق پائٹ کا کام اب صرف اساتذہ کو تربیت فراہم کرنا ہوگی جبکہ بیورو آف کریکولم کا کام نصاب کی تیاری اور طلبہ کی اسسمنٹ ہوگا۔ ڈائریکٹر بیورو آف کریکولم جامشورو عبداللطیف صدیق نے ”جنگ“ کو بتایا کہ عالمی بنک کا ایک امریکی کنسلٹنٹ آیا تھا جس نے بیورو آف پائٹ کے ٹرم آف ریفرنسز علیحدہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ سہ رکنی کمیٹی نے دونوں اداروں کے قواعد اور ذمہ داریاں علیحدہ کرنے کیلئے کام شروع کر دیا ہے تاہم ملازمین کی منتقلی اور سنیارٹی کا مسئلہ ہو رہا ہے۔ عبداللطیف صدیق نے بتایا کہ سندھ میں 25 ایلیمنٹری کالجز ہیں جن میں پی ٹی سی اور سی ٹی کرایا جاتا ہے جبکہ تین کالجز میں جن میں بی ایڈ اور ایم ایڈ کرایا جاتا ہے اور یہ تمام ادارے اب بیورو کے بجائے پائٹ کے ماتحت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پائٹ کی حالت زیادہ بہتر نہیں وہاں 25 آسامیاں گزشتہ 10 سال سے خالی ہیں جن میں 18 اسامیاں سبجیکٹ اسپیشلسٹس کی ہیں۔
شکریہ جنگ