وفاقی اردو یونیورسٹی ادارہ تصنیف و تالیف


وفاقی اردو یونیورسٹی کے ادارہ تصنیف و تالیف و ترجمہ کے رابطہ کار اور قائم مقام پی آر او ظفر محی الدین نے کہا ہے کہ ادارہ تصنیف و تالیف و ترجمہ کے پروجیکٹ کو صرف سائنسی کتابیں شائع کرنے تک محدود کر دیا گیا ہے اور فنون، قانون، تجارت اور کاروبار نظمیات جیسے اہم شعبوں کی کتابوں کی اشاعت کیلئے گنجائش نہیں رکھی گئی۔ ”جنگ“ سے بات چیت کرتے ہوئے ظفر محی الدین نے کہا کہ وفاقی اردو یونیورسٹی کا ادارہ تصنیف و تالیف و ترجمہ 1973ء سے کام کر رہا ہے
جب فیڈرل گورنمنٹ کالج قائم تھا اور اس ادارے نے کالج کی سطح کی بہت سی کتابیں شائع کیں مگر نومبر 2003ء میں اردو یونیورسٹی کے قیام کے بعد گریجویشن اور ماسٹرز کی سطح پر اردو میں سائنسی درسی کتابوں کی اشاعت کے لئے اعلیٰ تعلیم کمیشن نے منظوری دی اور ستمبر 2004ء میں ایک پی سی ون عمل میں آیا مگر اس میں تین سال کی مدت میں 90 کتابوں کی اشاعت کا ہدف رکھا گیا تھا
جو زمینی حقائق کے مطابق نہ تھا، تاہم ایک چھوٹی سی ٹیم نے یہ کام جس محنت، لگن اور اردو کی محبت میں سرانجام دیئے اس عرصے میں 2009ء تک 55 کتابیں شائع کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک بھی کتاب کا ترجمہ نہیں کیا گیا بلکہ مولفین نے ازخود تصنیف کی ہیں۔ ظفر محی الدین نے کہا کہ ادارہ تصنیف و تالیف و ترجمہ پوری تندہی سے کام کر رہا ہے اور اس وقت مزید گیارہ کتابیں زیر طبع ہیں۔ شکریہ جنگ