علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فارغ التحصیل طلبہ نے سر سید احمد خان کی روشن کی ہوئی شمع کے اجالے کو پوری دنیا میں پھیلایا ہے کیونکہ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ فروغ علم کے بغیر زندگی کے کسی بھی شعبہ میں ترقی ممکن نہیں۔ یہ بات سر سید یونیورسٹی میں منعقدہ استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے علی گڑھ المنائی ایسوسی ایشن کی روح رواں بیگم طاہرہ حسین نے کی۔ استقبالیے میں بھوپال سے آئی ہوئی متعدد کتابوں کی مصنفہ اور ماہنامہ فکر و آگہی کی مدیرہ ڈاکٹر رضیہ حامد نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی۔ بیگم طاہرہ حسین نے کہا کہ میں علی گڑھ تحریک کی ایک ادنیٰ سپاہی ہوں اور میں اپنی ایسوسی ایشن کے ذریعے اس کوشش میں مصروف ہوں کہ میں سر سید کے پیغام کو عام کروں اور حصول تعلیم میں جن طلباء و طالبات کو مالی مشکلات پیش آئیں انہیں دور کروں۔ انہوں نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے فارغ التحصیل طلبہ پاکستان میں بھی فروغ تعلیم کے لئے علی گڑھ مسلم یونیوسرٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے نہ صرف معترف ہیں بلکہ ان کی کوشش ہے کہ اس سلسلے میں ممکنہ تعاون بھی کریں۔ اس موقع پر علی گڑھ اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری محمد ذاکر علی خان نے کہا کہ طاہرہ حسین المنائی ایسوسی ایشن کی بڑی فعال رکن ہیں اور انہیں مخلصانہ خدمات کے نتیجہ میں وہاں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کے غریب طلباء و طالبات کے لئے بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر فنڈ اکٹھا کرتی ہیں ان کا خمیر چونکہ علی گڑھ سے اٹھا ہے اس لئے ان میں خدمات کا جذبہ بدرجہ اتم موجود ہے۔ سر سید یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر سید نذیر احمد نے کہا کہ طاہرہ حسین نے علی گڑھ کا نام روشن کیا ہے۔ شکریہ جنگ