اسسٹنٹ پروفیسر کے خلاف کارروائی


وفاقی حکومت نے جامعہ کراچی کو اسکالر شپ پر بیرون ملک جا کر ڈگری حاصل نہ کرنے والی خاتون اسسٹنٹ پروفیسر کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی اور 19 لاکھ 36 ہزار روپے کی رقم وصول کرنے کی ہدایت کی ہے۔ تفصیلات کے مطابق اسٹبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے ڈین آف آرٹس جامعہ کراچی پروفیسر سلیم میمن کو ایک خط بھیجا گیا ہے جس میں شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ کراچی کی خاتون اسسٹنٹ پروفیسر ثمینہ قریشی سے19 لاکھ 36 ہزار روپے کی رقم کی وصولی کا کہا گیا ہے خط میں لکھا ہے کہ سال 2004-5 میں ثمینہ قریشی کو سول سروس ریفارمز یونٹ (اسٹبلشمنٹ ڈویژن) کے پروفیشنل ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت ڈگری پروگرام کے لئے اسکالر شپ دی گئی۔ ثمینہ کا ڈگری پروگرام دسمبر 2005 میں ختم ہونا تھا تاہم وہ اس کی تکمیل میں ناکام رہیں اور 5 سال کا عرصہ بھی گزر گیا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ثمینہ قریشی کو اس سلسلے میں ایک قانونی نوٹس بھی 6 جنوری 2010 کو دیا گیا جس میں کہا گیا کہ وہ ثبوت کے طور پر ٹر ینی پروگرام کی تکمیل کے طور پر ڈگری کی کاپی جمع کرادیں یا پھر بیرون ملک تربیت پر خرچ ہونے والی 19 لاکھ 36 ہزار کی رقم جمع کرادیں خط میں کہا گیا ہے کہ ثمینہ قریشی قانونی نوٹس کا جواب دینے میں ناکام رہیں لہٰذا ان کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کی جائے
اور ان سے تربیت کی مد میں خرچ ہونے والی رقم وصول کی جائے۔ اسسٹنٹ پروفیسر ثمینہ قریشی نے رابطہ کرنے پر جنگ کو بتایا کہ ڈین آرٹس سلیم میمن نے مجھے بلایا تھا
میں نے انہیں اپنے سپروائزر کا خط دکھایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ مارچ کے وسط تک حل ہو جائے گا انہوں نے کہا کہ 5 سال گزرنے کے باوجود ڈگری حاصل نہ کرنے کے حوالے سے کچھ مسائل تھے جو اب تقریباً حل ہو گئے ہیں۔ شکریہ جنگ