جامعہ کراچی سمسٹر نتائج پانچ ماہ کی تاخیر


جامعہ کراچی میں ڈگری امتحانات کے نتائج میں تاخیر کے بعد اب سمسٹر امتحانات کے نتائج بھی تاخیر کا شکار ہونے لگے۔ جامعہ کراچی کے شعبہ کیمیاء کی پروفیسر صادقہ نے 5 ماہ گزرنے کے باوجود کیمسٹری سال آخر کی امتحانی کاپیاں چیک نہیں کیں۔ اسی طرح شعبہ کمپیوٹر سائنس کے کئی نتائج بھی سمسٹر سیل کو نہیں بھیجے گئے جس کی وجہ سے طلبہ شدید پریشان ہیں اور ان کے ایم ایس / پی ایچ ڈی میں داخلے رک گئے ہیں جبکہ ڈگری نہ ملنے کے باعث ان پر ملازمتوں کے دروازے بھی بند ہیں۔ سمسٹر سیل کے سربراہ ڈاکٹر ماجد ممتاز نے ”جنگ“ کو بتایا کہ شعبہ کیمیا کے تمام اساتذہ نے اپنے نتائج سمسٹر سیل کو بھیج دیے ہیں لیکن پروفیسر صادقہ فردوس باربار کہنے کے باوجود امتحانی کاپیوں کے نتائج سمسٹر سیل کو نہیں بھیج رہی ہیں جبکہ بورڈ آف اسٹیڈیز سے بھی ان کو فوری نتائج بھیجنے کی ہدایت کر دی گئی ہے لیکن وہ ہمیں نتائج نہیں فراہم کر رہی ہیں جس کی وجہ سے ایم ایس فائنل کے امتحانات کے نتائج روکے ہوئے ہیں۔ ماجد ممتاز نے بتایا کہ شعبہ کمپیوٹر سائنس کے نتائج روکے ہوئے ہیں۔
ہم نے شعبہ کے چیئرمین کو اس حوالے سے خطوط بھی لکھے ہیں مگر نتائج نہیں فراہم کیے جا رہے۔ جامعہ کراچی کی قائم مقام وائس چانسلر ڈاکٹر شاہانہ عروج کاظمی نے امتحانی کاپیاں تاخیر سے چیک کرنے اور نتائج بروقت سمسٹر سیل نہ بھیجنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا
کہ بحیثیت ڈین انہوں نے شعبہ کیمیاء کی ڈاکٹر فردوس کو نتائج بھیجنے کے لیے کئی بار کہا لیکن نتائج نہیں بھیجے گئے تہام اب میں بحثیت قائم مقام وائس چانسلر انہیں ایک روز کی مہلت دے رہی ہوں۔ اس سلسلے میں رجسٹرار کا خط انہیں فراہم کر دیا جائے گا۔ اسی طرح کمپیوٹر سائنس کو دو روز میں نتائج جاری کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔ یاد رہے کہ سابق وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالوہاب کے دور میں اساتذہ سمسٹر کے نتائج پرچے لینے کے ایک ہفتے بعد جاری کرنے کے پابند تھے بلکہ نتائج وقت پر نہ بھیجنے پر ڈاکٹر عبدالوہاب نے شعبہ خرد حیات اور شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے سربراہوں کو تبدیل کر دیا تھا۔
شکریہ جنگ