صوبائی محکمہ تعلیم نے کروڑوں روپے مالیت کے آئی ٹی پروجیکٹ میں ہو نے والی بے ضابطگیوں کے بعد پروجیکٹ کی مکمل رپورٹ طلب کرلی ہے یہ پروجیکٹ گزشتہ سال بند ہوگیا تھا اس پروجیکٹ کے تحت سندھ کے مختلف سرکاری اسکولوں میں 206/ کمپویٹر لیب قائم ہونا تھیں اور انسٹرکٹر بھرتی کئے جانے تھے پروجیکٹ کا آغاز سابق وزیر تعلیم ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو کے دور میں ہوا تھا تاہم ابتداء ہی سے یہ پروجیکٹ تاخیر کا شکار رہا
اور اس کے 6/ سے زائد پروجیکٹ ڈائریکٹر تبدیل ہوئے جبکہ کئی گاڑیاں خریدی گئیں تاہم بیشتر اسکولوں میں کمپیوٹر لیب نہیں بن سکی یا انہیں فعال نہیں بنایا جاسکا۔ سیکریٹری تعلیم سندھ صدیق میمن نے پروجیکٹ کے آخری ڈائریکٹر مظہر علی صدیقی کو طلب کرلیا گیا ہے اس حوا لے سے باقاعدہ خط جا ری کیا گیا ہے جس میں مظہر علی صدیقی سے کہا گیا ہے کہ وہ کمپیوٹر لیبز کی تفصیلات اور ہر لیب میں دستیاب چیزوں کی مکمل معلومات، پی سی IV کی کاپی، پروجیکٹ بند ہونے کی رپورٹ اور دیگر تفصیلات کے ہمراہ ایڈیشنل سیکریٹری (جی اے) شرف علی شاہ کو فراہم کریں۔ شکریہ جنگ