اُردو دفتری زبان کب بنے گی


کراچی : نیشنل عوامی پارٹی کے رہنما سینیٹر افراسیاب خٹک نے کہا کہ زبان ثقافت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، مشرقی پاکستان کی علیحدگی زبان کے مسئلے پر ہوئی تھی، بھارت کے آئین میں بھی ہندی کو قومی زبان کا درجہ دیا گیا ہے لیکن وہاں بھی انگریزی زبان نافذ ہے، اُردو زبان کو دفتری زبان بنانے کیلئے مزید ٹائم فریم کی ضرورت ہے۔ اِن خیالات کا اظہار اُنہوں نے جیو نیوز کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان حامد میر کے ساتھ گفتگو میں کیا۔
”اردو کو دفتری زبان نہ بنانا آئین کی دفعہ 251کی خلاف ورزی ہے ؟“ کے موضوع پر ہونے والے مباحثے میں ایم کیو ایم کی رکن قومی اسمبلی خوش بخت شجاعت ،پی پی پی کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی یوسف تالپور اور نیشنل پارٹی کے سینئر نائب صدر حاصل بزنجو شریک تھے۔ حاصل بزنجو نے کہا کہ زبانوں کا مسئلہ پاکستان بننے کے بعد شروع ہوا۔ اُردو کو پاکستانی زبانوں کے خلاف کھڑا کیا گیا۔ 1948ءء میں قائد اعظم نے اُردو کو قومی زبان قرار دیا
اور بنگالی کو قومی زبان تسلیم کرنے سے انکار کردیا جس سے کئی مسائل پیدا ہوئے۔ نیشنل عوامی پارٹی پر یہ سب سے بڑی تنقید یہ کی جاتی ہے کہ آپ نے اُردو زبان کو بلوچستان اور پختونخواہ میں کیوں نافذ کیا حالانکہ اُردو زبان کا کوئی قصور نہیں تھا۔ اُردو زبان کو دفتری زبان بنانا ممکن نظر نہیں آتا، آرٹیکل 251 کو آئین سے نکال دیا جائے یاپھر اس معاملے کے حل کیلئے نیا ٹائم فریم دیا جائے۔ شکریہ جنگ