محکمہ تعلیم سندھ میں اساتذہ کی تربیت اور بہتری کے سلسلے میں ایڈوائزری بورڈ کا اجلاس سندھ کے سینئر وزیر تعلیم پیر مظہر الحق کی زیر صدارت ریفارم سپورٹ یونٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکریٹری تعلیم محمد صدیق میمن، مظہر الحق صدیقی، ڈاکٹر محمد میمن، عبدالوہاب عباسی، ڈائریکٹر لٹریسی، ای ڈی او محمد ابراہیم کنبھر کے علاوہ ورلڈ بینک اور یورپی کمیشن کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں سندھ کے اساتذہ کی ٹریننگ، محکمہ تعلیم میں بہتری، اساتذہ کی اپنے اسکولوں میں موجودگی اور طلبہ کی حاضری کو بہتر بنانے، سی ٹی اور پی ٹی سی کورس کے بجائے ڈپلومہ متعارف کرانے سمیت مختلف امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں ایڈوائزری بورڈ کا نام تبدیل کرکے سندھ ایجوکیشن ڈیولپمنٹ بورڈ رکھنے کی تجویز دی گئی اور کہا گیا کہ سندھ اسمبلی میں اس حوالے سے باقاعدہ قانون سازی کی جائے جس کے بعد اساتذہ کی ٹریننگ، ٹیچنگ، اسناد اور دیگر امور کے بارے میں ایڈوائزری بورڈ کی سفارشات پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سینئر وزیر برائے تعلیم و خواندگی پیر مظہر الحق نے کہا کہ سندھ میں تحصیل کی سطح پر تعلیمی اداروں کی مانیٹرنگ کے لئے کمیٹیاں تشکیل دی جارہی ہیں جبکہ رواں ماہ کے آخر تک سندھ میں 13000 پرائمری اساتذہ کی بھرتی شروع ہوجائے گی جس کے بعد سندھ میں بند باقی 4500 اسکولز بھی کھولے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ شہید بے نظیر بھٹو نے اپنے منشور میں تعلیم کو سب سے زیادہ ترجیح دی ہے اس لئے ہم ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سندھ میں معیار تعلیم کو بلند کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پر سندھ کا قرض ہے جسے ہم سندھ کے بچوں کو بہتر تعلیم دے کر ہی اتارسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معیاری تعلیم پر کسی بھی قسم کا سیاسی دباؤ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایڈوائزری بورڈ میں اساتذہ تنظیموں کے نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔ شکریہ جنگ