محکمہ خزانہ نے پی سی 4 نہ فراہم کرنے پر سندھ کے 20 نئے کالجوں کی ایس این ای (اسامیوں کی منظوری) روک دی ہے۔ جن کالجوں کی ایس این ای روکی گئی ہے ان میں کراچی ریجن کے 14، حیدرآباد کے 2، سکھر کے 2 اور میرپور خاص ریجن کے 2 کالجز شامل ہیں۔ یہ کالجز 2 سال کے دوران قائم کئے گئے تھے اور یہاں انٹر کی کلاسیں بھی شروع کی جا چکی ہیں، جس کے لئے پرنسپلز اور اساتذہ سمیت تمام عملے کی تقرری ڈیٹیلمنٹ کی بنیاد پر کی گئی ہے
اور کوئی ملازم بھی مستقل نہیں۔ اساتذہ اور عملے کی کمی کی وجہ سے تدریسی امور میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کالجوں میں بیشتر پرنسپلز 18اور 19 گریڈ کے کام کر رہے ہیں۔ صوبائی محکمہ تعلیم نے ان 20 کالجوں میں اساتذہ اور ملازمین کی اسامیوں کے تعین کے لئے محکمہ خزانہ کے ساتھ اجلاس منعقد کیا
جس پر محکمہ خزانہ کے حکام نے کہا کہ جب تک ان کالجوں کے پی سی 4 فراہم نہیں کئے جاتے ہم یہاں اسامیوں کی تعداد کا تعین نہیں کرسکتے۔ ڈی جی کالجز کے ایک افسر نے ”جنگ“ کو بتایا کہ کالجوں کی تعمیر کا ذمہ دار ادارہ ایجوکیشن اینڈ ورکس ہے۔ جس کسی کالج کا پی سی ون بنتا ہے اور وہ کالج مکمل ہو جاتا ہے تو ایجوکیشن ورکس سرٹیفکیٹ کے بعد ہی پی سی 4 دیتا ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کالج مکمل ہو چکا ہے تاہم ان 20 کالجوں کا پی سی 4 نہ ہونے کے باعث محکمہ خزانہ نے ان کالجوں کی اسامیوں کی منظوری نہیں دی۔
شکریہ جنگ