قومی ادارہ برائے امراض قلب (این آئی سی وی ڈی) کی اکیڈمک فیکلٹی کے اراکین نے جمعہ کے روز ہونے والے ہنگامی اجلاس میں اسپتال کو صوبائی حکومت، لوکل یا کسی یونیورسٹی کے تحت کیے جانے کے فیصلے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایسے کسی بھی فیصلے کو قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسپتال کی انتظامیہ کو اس حوالے سے اگر مجبور کیا گیا تو حکومت کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اپنی موجودہ حیثیت سے خوش ہے، تاہم اگر حکومت کے لیے اسپتال کی موجودہ حیثیت کو بحال رکھنا ممکن نہ ہو تو ہمارا حکومت سے مطالبہ ہوگا کہ وہ ہمیں خودمختار ادارہ کی حیثیت جوکہ اس کے قیام کے وقت تھی، دے دے۔ واضح رہے کہ ان اطلاعات پر کہ جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر، قومی ادارہ برائے صحت اطفال اور قومی ادارہ برائے امراض قلب کو صوبائی حکومت، میڈیکل یونیورسٹی (جس کا قیام ابھی زیر غور ہے) یا لوکل گورنمنٹ کے تحت کیا جا رہا ہے جس پر این آئی سی وی ڈی کی اکیڈمک فیکلٹی کا ایک ہنگامی اجلاس سیکریٹری اکیڈمک کونسل پروفیسر خان شاہ زمان جوکہ این آئی سی وی ڈی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بھی ہیں،کی صدارت میں منعقد کیا گیا۔ اجلاس میں فیکلٹی کے 33 اراکین نے شرکت کی۔
اراکین نے مشترکہ طور پر اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ کسی یونیورسٹی، صوبائی حکومت یا لوکل گورنمنٹ کے تحت کام نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ این آئی سی وی ڈی اپنے قیام کے وقت ایک خودمختار ادارہ تھا جوکہ سوسائٹیز ایکٹ کے تحت 1963ء میں قائم ہوا۔ اس کی زمین ٹرسٹ کی ملکیت تھی۔ ٹرسٹیز نے بورڈ آف گورنرز کے ساتھ مل کر بلڈنگ کی تعمیر کے لیے رقم جمع کی۔ اسپتال1979 تک خودمختار حیثیت سے کام کرتا رہا، تاہم پھر اسے ایک آرڈیننس کے ذریعے وفاقی وزارت صحت کے تحت کر دیا گیا اور وفاقی وزیر صحت کو گورننگ باڈی کا چیئرمین بنا دیا گیا تھا جب سے اب تک یہ اسپتال نیم خودمختار حیثیت سے کام کر رہا ہے اور اپنی موجودہ حیثیت سے مطمئن ہے، تاہم اگر اسے کسی یونیورسٹی، صوبائی حکومت یا لوکل گورنمنٹ کے تحت کیا گیا تو اس پر احتجاج کیا جائے گا اور انتظامیہ چاہے گی کہ اس کی ماضی کی حیثیت بحال کر دی جائے یعنی اسے خودمختار بنا دیا جائے۔ شکریہ جنگ