بے نظیر بھٹو میڈیکل کالج لیاری اسٹاف سے محروم


افتتاح کے 2 ماہ بعد بھی لیاری جنرل اسپتال، فیکلٹی اوردیگر اسٹاف سے محروم ہے ۔ واضح رہے کہ شہید بے نظیر بھٹو میڈیکل کالج لیاری جس کے بارے میں صوبائی حکومت کا دعویٰ تھا کہ کالج کا تدریسی عمل اسی سال شروع ہوجائے گا۔ اس صورتحال میں پورا ہوتا نظر نہیں آتا، کالج کی فیکلٹی کے لئے اسپیشل سیکریٹری برائے پبلک ہیلتھ ڈاکٹر عبدالماجد کی سربراہی میں 6رکنی کمیٹی نے پروفیسر ایسوسی ایٹ پروفیسرز اور اسسٹنٹ پروفیسرز کے انٹرویوز کے بعد جو حتمی فہرست وزیراعلیٰ کو بھیجی تھی ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اسے مسترد کرتے ہوئے ۔ سیکریٹری صحت فصیح احمد کی سربراہی میں نئی کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے فیکلٹی کے لئے دوبارہ انٹرویوز کال کنرے کی ہدایت دی ہے ۔ دوسری جانب یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ کالج کے فرنیچرز ، جنریٹر اور کمپیوٹرزکے لئے پرنسپل نے جو ٹینڈر فائنل کر کے محکمہ صحت کو بھیجے تھے۔ محکمہ صحت نے ایک ماہ سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود ان کی منظوری نہیں دی ہے ۔ یہ بھی معلوم ہوا ہہے کہ سابق سیکریٹری صحت سید ہاشم رضا زیدی نے کالج کے پرنسپل کو دفتری امور چلانے کے لئے کنٹکریٹ پر کمپیوٹر آپریٹر، ڈرائیور اور ؟؟؟؟کو ملازم کرنے کی جو منظوری دی تھی ۔ ان کی تنخواہوں کی سمری موجودہ سیکریٹری صحت نے یہ کہہ کر روک لی ہے کہ قواعد کے خلاف ہے ۔ شکریہ جنگ