سرکاری اسکولز ملازمین تنخواہوں سے محروم


کراچی کے سرکاری اسکولوں میں تعینات ایک ہزار سے زائد نچلے گریڈ کے ملازمین کے کنٹریکٹ میں توسیع کی سمری صوبائی محکمہ تعلیم نے سردخانے کی نذر کردی، یہ ملازمین 3 سال قبل سابق وزیراعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم کے دور میں اس وقت کی ای ڈی او فخر کرین صدیقی نے بھرتی کئے تھے مگر 3 ماہ قبل ان کی تین سالہ مدت پوری ہوگئی جس کے بعد انہیں مستقل کرنے کے بجائے ان کی تنخواہوں کو روک لیا گیا۔ گذشتہ 3 ماہ سے یہ ملازمین انتہائی کسمپرسی کا شکار ہیں اور کنٹریکٹ میں توسیع کیلئے ای ڈی او تعلیم اور صوبائی محکمہ تعلیم کے دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں، سابق سٹی ناظم مصطفی کمال اور سابق ڈی سی او جاوید حنیف جاتے جاتے انہیں مستقل کرنے کی سمری منظور کرکے گئے تھے تاہم یہ معاملہ صوبائی محکمہ تعلیم نے التواء میں ڈال دیا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ ان کی جگہ نئے افراد بھرتی کئے جائیں گے۔ ای ڈی او تعلیم کراچی ابراہیم کنبھر نے ’جنگ‘ کو بتایا کہ سٹی ناظم اور ڈی سی او نے ان افراد کے کنٹریکٹ میں توسیع کی سمری منظور کرلی تھی جسے سیکریٹری تعلیم صدیق میمن کے پاس بھجوادیا گیا تھا جہاں سے یہ منظور نہیں ہوپائی ہے۔ ابراہیم کنبھر نے کہا کہ ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ ان افراد کو دو سال کا کنٹریکٹ دیا جارہا ہے۔ سیکریٹری تعلیم سندھ صدیق میمن سے متعدد مرتبہ رابطے کی کوشش کی تاہم وہ اپنا موبائل فون نہیں اٹھارہے تھے۔ شکریہ جنگ