کراچی : وفاقی اردو یونیورسٹی کی سینیٹ کا 16واں اجلاس 31 دسمبر 2009 کو گلشن اقبال کیمپس، کراچی میں ڈپٹی چیئر آفتاب احمد خان کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں اسکول آف اکنامکس کے قیام کی منظوری کالج دور کے سینئر اساتذہ کو پرسنل گریڈ دینے کی منظوری ، رئیس کلیہ سائنس کیلئے نئے رئیس کلیہ پروفیسر ڈاکٹر جمال حیدر کی تقرری کی منظوری کے علاوہ اجلاس نے اسلام آباد کیمپس کیلئے زمین کی خریداری کے سلسلے میں قائم کردہ کمیٹی جو شیخ الجامعہ کی سربراہی میں قائم کی گئی تھی جو اراکین سینٹر اور اعلیٰ ماہر قانون پر مشتمل ہے اس کی سفارشات کی روشنی میں زمین کی خریداری کی منظوری دی اور تاحال جگہ کا تعین عمل میں آچکا ہے۔ اسلام آباد کیمپس کے شعبہ اکنامکس کی کارکردگی کو سراہا گیا جو ملک کی تمام جامعات کے بہترین شعبوں میں سے ایک ہے اس کا سہرہ شعبہ کے موجودہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ کے سر جاتا ہے جس کا قیام تین سال قبل عمل میں آیا تھا اس سال شعبہ میں سو سے زائد طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں جس میں سے 50 طلبہ ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرام میں اندراج کرا چکے ہیں جس میں ایک طالب علم کو پی ایچ ڈی اور آٹھ طلبہ کو ایم فل کی اسناد تفویض کی جا چکی ہیں اور 16 طلبہ کورس ورک مکمل کرکے اپنے مقالات امتحانی مراکز میں جمع کرا چکے ہیں ، اجلاس میں شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر محمد قیصر، پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم صدیقی، پروفیسر ڈاکٹر نبی بخش بلاچ، پروفیسر اے کیو مغل، نمائندہ اعلیٰ تعلیمی کمیشن ، نمائندہ وفاقی وزارت تعلیم، چوہدری محمد الیاس، پروفیسر ضیاء الدین، پروفیسر عرشیہ صلاح الدین اور پروفیسر عبدالمالک نے شرکت کی اجلاس نے سنڈیکیٹ کے گزشتہ فیصلوں کی بھی توثیق کر دی۔
اب لگے ہاتھوں وفاقی اردو یونیورسٹی کی دو سالہ (2009-2010) کارکردگی کی مختصر رپورٹ بھی ملاحظہ کر لیجئے واضح رہے کہ تاحال اسے اس کی مالیاتی ضروریات کا تہائی حصہ بھی نہیں مل رہا۔
شکریہ جنگ