دنیائے ادب کے نامور قلم کاروں کو اعزازی رکنیت دینے کے لئے ایک پروقار تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں انتظار حسین‘ زہرہ نگاہ‘ افتخار عارف‘ امر جلیل اور تصدق سہیل کو آرٹس کونسل کی اعزازی رکنیت دی گئی جبکہ بھارت سے آئے ہوئے شمس الرحمن فاروقی کو نشان سپاس عطا کیا گیا۔ اس موقع پر صاحبان اعزاز کا پہلے تعارف کرایا گیا اور ان کی ادبی خدمات پر روشنی ڈالی گئی۔ انتظار حسین کا تعارف فراست رضوی نے، زہرہ نگاہ کا تعارف پروفیسر سحر انصاری، نے افتخار عارف کا تعارف پروفیسر اعجاز فاروقی نے، امر جلیل کا تعارف سلیم میمن نے اور تصدق سہیل کا تعارف ڈاکٹر آصف فرخی نے اور بھارت سے آئے ہوئے نامور نقاد کا تعارف غازی صلاح الدین نے پیش کیا ۔اس موقع پر انتظار حسین نے کہا کہ آرٹس کونسل نے جن شخصیات کی موجودگی میں مجھے اعزازی رکنیت کے اعزاز سے نوازا ہے میں آرٹس کونسل اور اہل کراچی کا بے حد ممنون ہوں۔ ممتاز شاعرہ زہرہ نگاہ نے کہا
کہ شاید میرے لئے پہلا اور آخری اعزاز ہے جو کہ میرے لئے انتہائی اہم ہے۔ افتخار عارف نے کہا کہ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کا بے حد احسان مند ہوں، مجھے کراچی سے گالیاں کھانے برا نہیں لگتا یہ تو اعزاز ہے۔ امر جلیل نے کہا کہ انہوں نے 1960ء میں آرٹس کونسل میں پاکستان تھیٹر اور نیشنل تھیٹر کے ہمراہ تین پلے کیے تھے جن میں ایک پلے ان کا تھا اور آج 50 سال کے بعد اسی آرٹس کونسل نے مجھے جس اعزاز سے نوازا ہے نہ صرف میں ممنون ہوں بلکہ جو کام 50 سال پہلے میں نے کیا تھا اس کا صلہ مجھے آج ملا ہے۔ نامور آرٹسٹ تصدق سہیل نے کہا کہ اعزازی رکنیت پر آرٹس کونسل کا بے حد ممنون ہوں۔ بھارت سے آئے ہوئے نامور نقاد شمس الرحمن فاروقی نے ہماری زبان، تہذیب اور نگاہ ایک ہے اور دل بھی ایک ہے، بس مل بیٹھ کر ہی مسئلے کا حل نکالا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر آرٹس کونسل کے سیکریٹری احمد شاہ نے تمام صاحبان اعزاز کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو زبان وادب کے فروغ کے لئے سب مل کر کام کریں۔ شکریہ جنگ