پروفیسر شیخ یحییٰ مرحوم


سرزمین سندھ نے انگریزی دور میں وضع کیے گئے نظام تعلیم کے بھی کئی ماہر اور صاحب علم پیدا کیے۔ قیام پاکستان کے بعد ہندوستان کے مختلف علاقوں سے بھی بہت سے صاحبان علم و فضل ہجرت کر کے سندھ میں قیام پذیر ہوئے اور یہاں کی علمی و تعلیمی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔
پروفیسر یحییٰ المعروف پروفیسر وائی، ایس طاہر علی بھی ان ہی صاحبان علم میں سے ایک نمایاں شخصیت تھے۔ آپ انڈین ایجوکیشن سروس سے وابستہ تھے۔ قیام پاکستان کے وقت لیاقت جونا گڑھ کے مشہور بہاؤ الدین کالج میں پروفیسر تھے۔ کچھ عرصے ریاست کے ڈائریکٹر انفارمیشن کی حیثیت میں بھی کام کیا۔
پروفیسر یحییٰ شیخ شاندار تعلیمی کیریئر رکھتے تھے۔ آپ عالمانہ عادات و اطوار کے حامل تھے اور اپنی قابلیت، بہترین قوت فیصلہ کی صلاحیت اور ذہانت کے لیے مشہور تھے۔ نہایت ایمانداری اور محنت سے خدمات انجام دیتے تھے۔“
قیام پاکستان کے بعد آپ نے سندھ ایجوکیشن سروس میں شمولیت اختیار کی اور آپ کا تقرر بحیثیت عربی پروفیسر کے ہوا۔ جلد ہی ترقی پاکر پرنسپل ہوگئے اور 1950ء میں شاہ عبداللطیف کالج میرپور خاص کے بانی پرنسپل کی حیثیت سے شہرت پائی۔ اسے بطور انٹرمیڈیٹ کالج کے قائم کیا اور یہاں پر اعلیٰ تعلیمی ترقی کے لیے سخت جدوجہد کر کے اس ادارے کو ڈگری کالج کی سطح تک پہنچادیا۔ اس کالج کی طلبہ یونین کے افتتاح کے لیے محترمہ فاطمہ جناح جیسی شخصیت میرپور خاص تشریف لائیں۔ یہ قیام پاکستان کے بعد سندھ میں قائم ہونے والا پہلا کالج تھا۔ حیدرآباد میں پہلے مسلم گرلز کالج کے قیام میں بھرپور کردار ادا کیا۔ سکھر میں ٹیچرز ٹریننگ کالج کے بانی پرنسپل رہے۔ گورنمنٹ کالج نوابشاہ کی عمارت بھی آپ ہی کے دور میں تعمیر ہوئی۔ ڈائریکٹر ایجوکیشن بھی رہے۔ ڈویژنل پبلک اسکول حیدرآباد کے بورڈ آف گورنر کے ممبر بھی رہے۔ آپ سندھ یونیورسٹی شعبہ عربی میں پروفیسر بھی رہے۔ یونیورسٹی سینیٹ، سنڈیکیٹ، اکیڈمک کونسل اور بورڈ آف اسٹیڈیز کے ممبر بھی تھے۔ آپ کی اعلیٰ تعلیمی و علمی لیاقت اور انتظامی صلاحیتوں کو علامہ آئی آئی قاضی، ڈاکٹر ڈو آرٹ، فرانس کے ڈاکٹر حمید اللہ جیسی شخصیات نے خراج تحسین پیش کیا۔ پروفیسر مرحوم بہت سے علمی، ادبی اداروں اور سماجی فلاحی تنظیموں سے وابستہ رہے، کانفرنسوں میں شرکت کی۔ کئی کتابیں اور مضامین و مقالات لکھے۔ آپ کا خاص موضوع عربی زبان و ادب تھا۔ آپ کے لکھے ہوئے اعلیٰ پائے کے تحقیقی مقالات کو اہل علم حضرات نے بہت سراہا ہے۔ ان میں انگریزی میں لکھے گئے عربی صوفیات، عربی علم وجہ تسمیہ اور نعتیہ قصیدہ سمط المجاہد شامل ہیں۔ آپ کے ایک مضمون پر تبصرہ کرتے ہوئے سندھی ادبی بورڈ کے سہ ماہی رسالہ ”مہران“ کے ایڈیٹر مولانا غلام محمد گرامی نے لکھا ”رسم الخط کی تاریخ جناب وائی ایس طاہر علی کے وسیع مطالعہ کا شاہکار ہے۔
سندھ اور سندھی زبان کے بارے میں بہت سے مضامین کاترجمہ بھی کیا۔ جن میں فارسی شاعری میں سندھ کا جغرافیائی مفہوم،” قدیم آریائی عہد کا سندھ اور اس کے باشندے“ سندھی علم الاصوات اور مرزا قلیچ بیگ شامل ہیں۔ برصغیر میں پروفیسر صاحب عربی اور فارسی زبان و ادب میں سند کی حیثیت رکھتے ہیں۔
پروفیسر وائی ایس طاہر علی کا انتقال 1990ء میں حیدرآباد میں ہوا۔ آپ کی ذاتی کتب اب نیشنل میوزیم کراچی، شمش العلماء داؤد پوتہ پراونشل لائبریری حیدرآباد اور سندھ یونیورسٹی لائبریری کی زینت ہیں، آپ کا ایک یادگار وہ کتاب کارنر ہے جو آپ کا عطیہ کردہ نادر و نایاب کتابوں سے انسٹیٹیوٹ آف سند الاجی جامشورو میں قائم کیا گیا ہے۔ اللہ آپ پر ہمیشہ اپنی رحمت نازل فرمائے۔ آمین!
شکریہ جنگ