میٹرک طلبہ امتحانی مراکزمیں سہولتوں کی یقینی فراہمی


ثانوی تعلیمی بورڈ نے بھاری بھرکم امتحانی فیسیں وصول کرنے کے بعد بھی اپنی سابقہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے نویں دسویں کے طلبہ کے سالانہ امتحانات کے لیے انتظامات کیے ہیں وہ درست نہیں۔ ان خیالات کااظہار پرائیویٹ اسکولزمنیجمنٹ ایسوسی ایشن ”پسما“ کے سینئر رہنما شرف الزماں نے اپنے بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ثانوی تعلیمی بورڈ نے امتحانی مراکز میں حبس، گرمی اور لوڈشیڈنگ سے بچاؤکے لیے کسی قسم کے کوئی انتظامات نہیں کیے بلکہ ثانوی تعلیمی بورڈکی نئی انتظامیہ نے نویں دسویں جماعتوں کے سائنس گروپ کے امتحانات کے لیے دوپہرکا وقت منتخب کیا
گذشتہ کئی برس سے سائنس گروپ کے امتحانات صبح کے اوقات میں ہوتے رہے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ سائنس گروپ میں طلبہ کی تعداد تقریباً تین لاکھ کے قریب ہوتی ہے جبکہ آرٹس گروپ میں طلبہ کی تعداد 20 تا30 ہزار ہوتی ہے۔ اس بار جب گرمی بھی شدید ہے اور لوڈشیڈنگ کا عذاب بھی مسلط ہے۔ ایسے بھی سائنس گروپ کے لیے دوپہرکی شفٹ کیوں مخصوص کی گئی، گرمی حبس اور لوڈشیڈنگ میں طلبہ کی اتنی بڑی تعداد کلاسز میں کس طرح بیٹھ کر اطمینان اور سکون سے امتحانات دے پائیں گے۔ شرف الزماں نے چیئرمین اورکنٹرولر بورڈ سے مطالبہ کیا ہے کہ طلبہ کوگرمی اور لوڈشیڈنگ سے بچانے کے لیے امتحانی مراکز میں جنریٹر، یوپی ایس اور دیگر سہولتیں فراہم کی جائیں۔شکریہ جنگ