اسلام آباد:جعلی تعلیمی اسناد کے مقدمہ میں پنجاب سے قومی اسمبلی کے دو ارکان نے استعفیٰ دے دیا ہے ، ان میں پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی اور قائمہ کمیٹی برائے کھیل کے سربراہ جمشید دستی اور مسلم لیگ قاف کے رکن نذیرجٹ شامل ہیں ۔ جمشید دستی کی دینی مدرسہ کی سندجعلی ہونے سے متعلق مقدمہ کی سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے چھ رکنی بنچ نے کی۔ جمشید دستی دوران سماعت ججوں کے تندوتیز سوالات کا جواب نہ دے سکے۔جسٹس خلیل الرحمن رمدے ان سے قرآن کے پاروں اورسورتوں کے نام کے علاوہ ریاضی کے پہاڑے کے بارے میں پوچھتے رہے۔ایک موقع پر جمشید دستی نے قرآن کی پہلی دو سورتوں کے غلط نام بتائے جبکہ وہ دینی مدرسہ میں تعلیم کے دورانیہ کے بارے میں بھی جواب نہ دسکے، اس پر جسٹس خلجی عارف نے کہا
کہ وہ قومی اسمبلی کے پورے ایوان کی بے عزتی کا باعث بنے ہیں۔عدالت نے فیصلہ سنانے سے قبل انہیں مستعفی ہونے کی مہلت دی جس پر جمشید دستی نے قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے پرآمادگی ظاہرکردی،بعداز اں انہوں نے قومی اسمبلی میں اپنی نشست سے استعفیٰ دے دیا ، جس کے بارے میں وکیل نے سپریم کورٹ کو آگاہ کردیاہے۔وہ فروری2008 کے عام انتخابات میں ضلع مظفرگڑھ سے این اے 178کی نشست پر کامیاب ہوئے تھے۔ضلع وہاڑی کی تحصیل بورے والا سے مسلم لیگ قاف کے رکن نذیر جٹ کی تعلیمی سند کیس کی سماعت بھی اسی بنچ کی۔ ڈپٹی سیکریٹری تعلیم نے عدالت کو بتایا کہ نذیر جٹ ، ایم اے کے امتحان میں فیل ہوئے تھے جس پرعدالت نے نذیر جٹ طلب کیاتاہم اس دوران ان کے وکیل نے بتایا کہ نذیر جٹ نے گزشتہ روز ہی اسپیکر قومی اسمبلی کو اپنا استعفیٰ جمع کرادیا ہے۔وہ این اے 167 سے رکن قومی اسمبلی بنے تھے ۔نذیر جٹ کا کہنا تھا کہ انہوں نے استعفیٰ جعلی ڈگری کی وجہ سے نہیں بلکہ مسلم لیگ ن کو جوائن کرنے کیلئے دیا۔ اب وہ ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ ن کی جانب سے حصہ لیں گے۔ شکریہ جنگ