ڈاؤ یونیورسٹی اوجھا کیمپس واک


تپ دق کے عالمی دن کے موقع پر ڈاؤ یونیورسٹی کے ادارے اوجھا کے زیراہتمام سپارکو روڈ سے اوجھا اسپتال تک واک کا اہتمام کیا گیا۔ واک کا مقصد عام لوگوں کو تپ دق کے متعلق آگاہی دینا تھا۔ واک کی قیادت وزیر صحت ڈاکٹر صغیر احمد اور وائس چانسلر ڈاؤ یونیورسٹی ڈاکٹر عبدالماجد، اسپیشل سیکریٹری ہیلتھ اور ڈائریکٹر اوجھا ڈاکٹر افتخار نے کی۔ اس موقع پر وزیر صحت نے کہا کہ تپ دق کے پھیلاؤ کا سبب غربت، غیر صحت مند ماحول اور آلودگی میں اضافے کے علاوہ مرض سے آگاہی نہ ہونا اور اس کے علاج سے لاپروائی برتنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال سندھ میں 8500 افراد تپ دق میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور15000 مریض درست اور مکمل علاج نہ کرانے پر انتقال کر جاتے ہیں۔ پروفیسر مسعود حمید نے کہا کہ تپ دق کے علاج سے لاپروائی برتنے پر یہ خطرناک ترین تپ دق یعنی ایم ڈی آر میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر عبدالماجد اسپیشل سیکریٹری ہیلتھ نے کہا کہ تمام جنرل پریکٹیشنرز کے لیے یہ خاص موقع ہے کہ وہ اپنے کلینکس کو ڈاٹس میں رجسٹر کروا لیں، ہم ان کو ان کے مریض کے لیے مفت دوائیں فراہم کریں گے۔ ڈاکٹر افتخار احمد ڈائریکٹر اوجھا نے کہا کہ تپ دق سو فیصد قابل علاج ہے۔ شکریہ جنگ