سر سیّد یونیورسٹی جلسہ تقسیم اسناد


سر سیّد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کا تیرہواں جلسہ تقسیم اسناد منعقد ہوا جس میں 1086 طلبہ کوگریجویشن اور 16 طلبہ کو ایم ایس کی اسناد تقویض کی گئیں ۔سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس سر مد جلال عثمانی جلسہ تقسیم اسناد کے مہمانِ خصوصی تھے اپنے خطاب میں مہمان خصوصی نے ڈگری حاصل کر نے والے طلبہ و طالبات کو زندگی کی اس اہم ترین کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ میرا پہلا پیغام یہ ہے کہ آپ خواہ کسی بھی شعبہ سے متعلق ہوں ایماندری کو اپنا شعار بنائیں اس طرح سے معاشرہ میں بھی اپنا منفرد مقام بنائیں یہی سر سیّد احمد خاں کی فکر تھی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی روایت بھی میرا دوسرا مشورہ یہ کہ Charityآپ کے کردار کا ایک اہم جز ہونا چاہئے اس سے میری مراد مالی نوعیت کی چیرٹی نہیں بلکہ اپنے رویہ فکر اور عمل سے اس کا اظہار کریں اور دوسروں کی مدد کریں۔ اور تیسری اہم نصیحت یہ ہے کہ آپ خواہ کسی بھی شعبہ سے وابستہ ہوں اس میں لگن تحقیق و تجسس کے ذریعہ اس شعبہ میں فضیلت حاصل کریں یہی وہ فکر تھی جو جنوبی ایشیاء کے نامور ماہر تعلیم اور صاحب نظر و فکر کے حامل سر سیّد احمد خاں نے مسلمانوں میں پیدا کی جس کی بنا پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے معروف اور قد آور شخصیتیں نکلیں اور نہ صرف بر صغیر بلکہ دنیا کے اہم گوشوں میں اہم ترین مقام حاصل کیا اپنی تقریر کے آغاز میں انہوں نے سر سیّد یونیورسٹی کی وابستگی کے حوالے سے کہا کہ ان کے دادا بھی علیگیرین تھے اور وہ خود کئی سال تک سر سیّد یونیورسٹی کے بورڈ آف گورنر کے رکن رہے۔ یونیورسٹی کے چانسلر انجینئر ظل احمد نظامی نے اپنے خطاب میں عدلیہ کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مہذب معاشرہ میں عدلیہ عام آدمی اور اداروں کے حقوْق کا تحفظ کرتی ہے سر سیّد یونیورسٹی کے قیام کا پس منظر بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سر سیّد احمد خان کی فکر اور دور اندیشی کی بدولت مسلمانوں کو پستی سے نکال کر ایک تعلیم یافتہ قوم میں تبدیل کیا۔شکریہ جنگ