منشیات کے استعمال کی روک تھام کیلئے ہمیں شعور اجاگرکرنا ہوگا، ہمیں منشیات سے پاک جامعہ ہی نہیں بلکہ پاکستان چاہیے اور اس کے لیے نوجوانوں کو تعلیمی اداروں کے ساتھ اپنے علاقوں میں بھی شعور اجاگرکرنا ہوگا، اس کے مضمرات سے آگاہی ضروری ہے۔
یہ بات شیخ الجامعہ کراچی ڈاکٹر پیرزادہ قاسم ڈین فیکلٹی آف سائنس جامعہ کراچی اور ڈرگ فری پاکستان فاؤنڈیشن کے زیراہتمام سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر ڈین فیکلٹی آف سائنس ڈاکٹر شاہانہ عروج کاظمی نے کہا کہ سائنس کے شعبہ جات سے تعلق کی بنا پر ہم منشیات کے انسانی صحت پر منفی اثرات کے بارے میں لوگوں میں شعور اجاگر اور اس کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر مجید اللہ قادری نے اس موقع پر منشیات کی روک تھام کے سلسلے میں علماء، مساجدکے امام اور سیاسی رہنماؤں کی ذمہ داریوں کی طرف اسلامی حوالے سے توجہ دلائی۔ ڈاکٹر اشرف علی شاہ نے کہا کہ پاکستان میں سرنج کے ذریعے نشہ کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے
اور اس سبب انجکشن کے استعمال سے ہیپا ٹائٹس سی جیسے امراض میں اضافہ ہوا ہے۔ موجودہ دور میں نشہ کرنے والی خواتین کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ سیمینار سے ڈاکٹر تنویر خالد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منشیات کے استعمال کو روکنے کیلئے صرف معلومات لوگوں تک پہنچانا ہی کافی نہیں، ہمیں نشہ کے عادی افراد اور پورے معاشرے کو باشعور بنانا ہوگا۔ سیمینار میں ایسے دو نوجوانوں کو بھی پیش کیا گیا جو نشے کی عادت چھوڑکر اب نارمل زندگی گزار رہے ہیں۔شکریہ جنگ