ثانوی تعلیمی بورڈ کے تحت پیر کو ہونیوالے پرچوں میں کھلے عام نقل کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ فیڈرل بی ایریا میں واقع کراچی اکیڈمی، دہلی اسکول اور لانڈھی، ملیر، لیاری اور صدر ٹاؤن کے اسکولوں میں کھلے عام نقل کا سلسلہ جاری رہا۔ دفعہ 144 کے نفاذ کے باوجود بیرونی افراد نقل کراتے رہے، فوٹو اسٹیٹ کی دکانیں کھلی رہیں
جبکہ امتحانی مراکز کے باہر پولیس اور رینجرز تعینات نہیں تھی ۔ ثانوی تعلیمی بورڈ میں ڈائریکٹر ریسرچ کے طور پر قواعد کے خلاف سفارش پر بھرتی ہونیوالے گورنر ہاؤس کے ریٹائرڈ ایڈیشنل سیکرٹری عبدالرحمن کی سربراہی میں قائم اسپیشل ویجیلنس ٹیم بھی ایک امیدوار کو بھی نقل کرتے ہوئے پکڑ نہیں سکی۔ پیر کو ہونے والے صبح اور دوپہر کے پرچوں کے دوران نصف سے زائد امتحانی مراکز پر بجلی غائب رہی امیدواروں نے شدید حبس اور گرمی میں پرچے دیئے۔ درجنوں امتحانی مراکز پر پانی اور دیگر سہولتیں موجود نہیں تھیں۔ دریں اثناء تعلیمی بورڈ کراچی کے ویجیلنس آفیسر فہیم خان کے مطابق نقل کرنے والے افراد کے بارے میں علم نہیں ہوتا، یہ بات فیکلٹیز سے پوچھی جائے، ہمارے پاس نقل کی کوئی اطلاع نہیں ہوتی۔ ناظم امتحانات کلیم اصغر کرمانی نے سرکلر جاری کیا ہے
جس میں کہا گیا ہے کہ ہر دوسرے دن ایس ایم ایس کے ذریعے پرچہ آؤٹ ہونے کی اطلاع صرف افواہ ہوتی ہے۔ لہٰذا طلبہ وطالبات گمراہ کن افواہوں پر توجہ نہ دیں اور دل لگا کر امتحانات کی تیاری کریں۔ ادھر کراچی یونیورسٹی جہاں ان دنوں رینجرز کی موجودگی میں بی اے پرائیویٹ کے امتحان جاری ہیں اب تک 300 سے زائد امیدواروں کو نقل کرتے ہوئے پکڑا جا چکا ہے جبکہ پیر کو 12 افراد کو نقل کرتے ہوئے پکڑا گیا۔ شکریہ جنگ