NED University Vice-Chancellor's interview


کراچی (محمد عسکری) صوبے کی دوسری بڑی سرکاری انجینئرنگ یونیورسٹی این ای ڈی انجیئرنگ یونیورسٹی اینڈ ٹیکنالوجی کو سیاست سے پاک کرنے اور اسے ملک کی بہترین یونیورسٹی بنانے والے 88 سالہ وائس چانسلر انجینئر اے کلام جو مسلسل 14 سال سے یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہیں چوتھی مسلسل مرتبہ وائس چانسلر کا عہدہ سنبھالنے کے لئے تیار نہیں تھے مگر گورنر سندھ / چانسلر ڈاکٹر عشرت العباد خان کی درخواست پر انہوں نے چوتھی مدت کے لئے بھی وائس چانسلر بننے پر رضامندی ظاہر کردی۔
گزشتہ روز اپنے دفتر میں ”جنگ“ سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے انجینئر اے کلام نے کہا کہ اگر گورنر مجھے حکم دیتے تو میں اگلی مدت کے لئے وائس چانسلر کا عہدہ نہ سنبھالتا کیونکہ اب میری عمر زیادہ ہوگئی ہے۔ بیوی بھی نہیں چاہتی کہ کام کروں اور پھر میرے بچوں کی عمر بھی 50 سال سے زیادہ ہے اور ان بچوں کے بچے بھی ملازمتیں شروع کر چکے ہیں مگر جب گورنر سندھ نے درخواست کی کہ جامعہ این ای ڈی کی بہتری کے لئے ایک اور مدت کے لئے وائس چانسلر بن جائیں تو میں نے پھر رضامندی ظاہر کر دی۔ انجینئر ابو کلام نے کہا کہ جب میں وائس چانسلر بنا تو سیاست بہت تھی جسے میں نے آتے ہی ختم کیا، میرٹ قائم کیا اور سب کے ساتھ یکساں سلوک کیا۔ کسی کو رعایت نہیں دی۔ میرے تین اصول تھے۔

تعلیمی معاملات میں مداخلت نہ کی جائے، جامعہ کی پراپرٹی کو نقصان نہ پہنچایا جائے اور خواتین کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک روا نہ رکھا جائے اور اگر سیاست کرنی ہے تو جامعہ کے باہر کی جائے۔ شروع میں ایک مذہبی طلبہ تنظیم کے کچھ لڑکوں نے تعلیمی معاملات میں مداخلت کی تو میں نے انہیں خارج کر دیا۔ اس وقت سندھ کے گورنر ایک (ر) جنرل تھے جنہوں نے مجھ پر ان طلبہ کو بحال کرنے کے لئے دباؤ ڈالا مگر میں نے کہا کہ یہ بیوقوف بنا رہے ہیں اور میں نے ان کی بات نہیں مانی۔
بعدازاں حکمراں جماعت کی طلبہ تنظیم کے کچھ لڑکوں نے گڑبڑ کی تو ان کو بھی فارغ کردیا مگر موجودہ گورنر عشرت العباد خان کو میں خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے ان طلبہ کی بحالی کے لئے کبھی نہیں کہا۔ انجینئر اے کلام نے کہا کہ وائس چانسلر کا کام صرف اپنے دفتر میں بیٹھنا نہیں ہوتا میں خود وقتاً فوقتاً کلاسوں میں جاتا ہوں۔ خاموشی سے دیکھتا ہوں کہ ٹیچر کیسا پڑھارہا ہے۔ خود وقت پر آتا ہوں روزانہ آتے اور جاتے ہوئے حاضری لگاتا ہوں۔ جب میں حاضری لگاؤں گا تو ظاہر ہے ٹیچر بھی لگائیں گے۔ آفیسرز بھی لگائیں گے اور ملازمین بھی لگائیں گے۔

یونیورسٹی چلانے کے لئے ٹیم ورک اور مانیٹرنگ بہت ضروری ہے اور میں یونیورسٹی کے گیٹ اور دوسرے مقامات کا بھی اکثر دورہ کرتا رہتا ہوں۔ انجینئر اے کلام نے جامعہ کراچی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالوہاب کو بہترین ایڈمنسٹریٹر قرار دیا تاہم یہ بھی کہا کہ سیکورٹی فورس بنانے کے باعث انہیں وقت سے پہلے جانا پڑ گیا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ پہلے عمل پر یقین رکھتے ہیں بعد میں رینجرز کا استعمال کرتے ہیں۔ انجیئر اے کلام نے مزید کہا کہ جامعات کی گرانٹ میں کمی کی اصل ذمہ دار وفاقی محکمہ خزانہ ہے ۔
شکریہ جنگ